بدھ 4 فروری 2026 - 15:31
4 فروری یومِ وفات خادمِ دین و ملت مولانا سید محمد علی آصف طاب ثراہ

حوزہ/دنیا میں آنا، چند سانسیں لینا اور پھر خاموشی سے رخصت ہو جانا—یہ زندگی کا وہ اٹل قانون ہے جس سے نہ کوئی انکار کر سکتا ہے اور نہ فرار۔ لوگ پیدا ہوتے ہیں، اپنے حصے کی زندگی جیتے ہیں، اور ایک دن اس دنیا کو الوداع کہہ جاتے ہیں۔ ان کی جدائی پر آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں، دل غم سے بوجھل ہو جاتے ہیں، احباب و اقارب افسوس کا اظہار کرتے ہیں؛ مگر وقت کی گردش رفتہ رفتہ ان یادوں پر پردہ ڈال دیتی ہے، اور زندگی اپنے معمول کی طرف لوٹ آتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی|

دنیا میں آنا، چند سانسیں لینا اور پھر خاموشی سے رخصت ہو جانا—یہ زندگی کا وہ اٹل قانون ہے جس سے نہ کوئی انکار کر سکتا ہے اور نہ فرار۔ لوگ پیدا ہوتے ہیں، اپنے حصے کی زندگی جیتے ہیں، اور ایک دن اس دنیا کو الوداع کہہ جاتے ہیں۔ ان کی جدائی پر آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں، دل غم سے بوجھل ہو جاتے ہیں، احباب و اقارب افسوس کا اظہار کرتے ہیں؛ مگر وقت کی گردش رفتہ رفتہ ان یادوں پر پردہ ڈال دیتی ہے، اور زندگی اپنے معمول کی طرف لوٹ آتی ہے۔

لیکن تاریخ ہمیشہ یہ بھی گواہی دیتی آئی ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض زندہ نہیں رہتے، بلکہ زندگی کو معنی دے کر جیتے ہیں۔ وہ اپنے وجود سے مثال بن جاتے ہیں۔ ان کی موت صرف جسم کی ہوتی ہے، فکر، کردار اور خدمت کی نہیں۔ وہ اپنے اعمال کے ذریعے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔

ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے؎

جسم کی موت کوئی موت نہیں ہوتی

جسم مر جانے سے انسان نہیں مرتا

مرحوم و مغفور مولانا سید محمد علی آصف کا شمار بھی انہی نادر اور صاحبِ دل انسانوں میں ہوتا ہے جن کا تذکرہ وقت کی گرد میں دب نہیں سکا۔ ان کی یاد آج بھی اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک مانوس سی کسک بن کر موجود ہے، اور ان کا نام آتے ہی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ ان کی زندگی خود ایک خاموش درس گاہ تھی—جہاں خطبوں سے زیادہ کردار بولتا تھا، اور دعووں سے زیادہ عمل راستہ دکھاتا تھا۔

سیرت و کردار کے اعتبار سے وہ اسلاف کی جھلک بھی تھے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مینار بھی۔ تقویٰ ان کا زیور تھا، اخلاص ان کی پہچان، درد مندی ان کی سرشت اور خدمت ان کی زندگی کا محور۔ ایسے جامع اوصاف رکھنے والا مردِ مومن قوم و ملت میں شاذ ہی دکھائی دیتا ہے۔ علم کی پختگی، روحانیت کی لطافت، نیت کی پاکیزگی اور خدمت کی بے غرضی—یہ سب ان کی ذات میں اس طرح جمع تھے کہ ایک دوسرے پر غالب نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کرتے تھے۔

اگرچہ انہیں علمی وقار بھی حاصل تھا، مالی وسعت بھی، اور سماجی اثر بھی—مگر ان تمام نعمتوں پر انکساری کا غلاف ہمیشہ غالب رہا۔ غرور، خود پسندی اور احساسِ برتری ان کے مزاج سے ناآشنا تھے۔ ان کی اصل پہچان نرم خوئی، دل جوئی، اپنائیت اور دوسروں کے دکھ میں شریک ہونا تھی۔ یہی وہ صفات تھیں جنہوں نے انہیں دلوں کا امین بنا دیا۔

جس خوش نصیب کو کبھی مختصر مدت کے لیے بھی ان کی رفاقت نصیب ہوئی، یا جو کسی مرحلے پر ان کے زیرِ انتظام رہا، وہ ان کے خلوص سے لبریز اخلاق اور شائستہ برتاؤ کو عمر بھر نہ بھلا سکا۔ ان کی شخصیت میں بلند نظری بھی تھی، گفتگو میں دل نشینی بھی، اور دلوں کا درد محسوس کرنے والی وہ خاموش محنت بھی—جو انسان کو انسانوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ رکھ دیتی ہے۔

مغربی یوپی کی سرزمین آج بھی ان کی بے لوث دینی و سماجی خدمات کی گواہ ہے۔ مکاتب و مساجد، امام باڑے، مومنین کے بے شمار گھرانے، اور وہ ہزاروں نادار بچے اور نوجوان جن کی علمی، اخلاقی اور معاشی دست گیری انہوں نے کی—یہ سب ان کے وہ اعمالِ خیر ہیں جن کی اصل وسعت ان کی رحلت کے بعد آشکار ہوئی۔ یہی وہ پوشیدہ نیکیاں ہیں جو انسان کے لیے دنیا میں حسنِ ذکر اور آخرت میں نجات کا مضبوط سرمایہ بنتی ہیں۔

کہنے کو تو آج ان کی جدائی کو گیارہ برس بیت چکے ہیں، مگر ان کی روشن سیرت کی خوشبو آج بھی دلوں میں تازہ ہے اور آنے والے زمانوں تک باقی رہے گی۔ وہ صرف صاحبِ علم و عمل عالمِ دین ہی نہیں تھے، بلکہ اپنی سماجی اور معاشرتی زندگی میں بھی اعلیٰ درجے کے کریمانہ اخلاق کا جیتا جاگتا نمونہ تھے۔ اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ بھی شفقت، وقار اور شائستگی کو اپنا شعار بنائے رکھتے تھے۔

واقعی

کتنے اچھے لوگ تھے، کیا رونقیں تھیں ان کے ساتھ، ان کی رخصت نے گویا بستیوں کو سونا کر دیا، آج بھی مکاتب، مساجد، فقرا و مساکین اور نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے ہر گوشے میں ان کی بے لوث خدمات کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔

زمانہ بیت گیا، مگر گماں یہی ہے کہ وہ آج ہی ہم سے جدا ہوئے ہوں۔

آخر میں ہم بارگاہِ الٰہی میں دستِ دعا بلند کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم مولانا سید محمد علی آصف کو اپنے جوارِ رحمت میں، معصومینؑ کے قرب میں بلند درجات عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب کرے۔

اللّٰہم اغفر لہٗ وارحمہٗ برحمتک یا ارحم الراحمین

تمام بزرگان، برادران، خواہران اور احباب سے مودبانہ التماس ہے کہ مرحوم کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے سورۂ فاتحہ کی تلاوت فرمائیں۔

الاحقر: سید کرامت حسین شعور جعفری

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha